ابنا: واشنگٹن پوسٹ نے اپنی کل کی اشاعت میں اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون کےحوالےسےدعوی کیاہےکہ ایران، اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایٹمی مذاکرات سےفائدہ اٹھاکر ایٹم بم بناسکتاہے۔
محمدخزاعی نے اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کےنام اپنےخط میں لکھا ہےکہ اگرواشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں سچائی ہے تو یہ باعث افسوس ہے کہ اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کےبارےمیں اپنے فرائض منصبی اور بین الاقوامی قوانین کےبرخلاف متضاد موقف اختیارکیاہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کےنمائندے نےبان کی مون کےانٹرویو کےدوسرےحصے کی جانب اشارہ کرتےہوئے جس میں انھوں نےکہاہےکہ سلامتی کونسل کو ایران کےایٹمی پروگرام کےبارےمیں فوری اورموثر ردعمل ظاہرکرناچاہئے، سخت تنقیدکی ہے۔ محمدخزاعی نے اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کومخاطب کرتےہوئےتاکیدکی ہےکہ اگرواشنگٹن پوسٹ کی یہ روایت صحیح ہے تو اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل سےتوقع ہے کہ وہ انصاف اوراعتماد کےاصولوں کی حفاظت کريں گے اورتنازعات اور عالمی بحرانوں کوحل کرنےکےلئے سفارتی اصولوں ، مذاکرات اور پرامن طریقےاستعمال کریں گے۔
اس خط میں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان چھبیس فروری کوقزاقستان میں مذاکرات کے نئےمرحلےکی جانب اشارہ کرتےہوئےلکھاہے کہ اس حساس وقت میں اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کا اس طرح کاموقف مذاکرات سےپہلے کےماحول کی روح کےمنافی ہے، کیونکہ اس وقت سامنےآنےوالےبیانات، طرفین کےدرمیان اختلاف کےحل میں مددگارہونےچاہئےتھے۔
حقیقت یہ ہےکہ مغرب تعمیری مذاکرات نہیں چاہتا اور خراب کرکے مذاکرات کےعمل کونقصان پہچانے کوترجیح دیتا ہے۔
درحقیقت ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات کے ناکام ہوتے رہنے کی ایک وجہ اسی غیرمنطقی رویے کاتسلسل ہے جوبعض مذاکراتی فریقوں سے ایران کااعتماد اٹھ جانےکاسبب بن گیا ہے۔
تجربے سےپتہ چلتا ہے کہ جب بھی ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات شروع کرنے کی کوشش ہوتی ہے توانھیں رکوانےاور ایران سے خوف زدہ کرنے کےاقدامات شروع ہوجاتےہیں۔جبکہ علاقائی اوربین الاقوامی حقائق کاتقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل ذمہ دارانہ رویہ اختیارکرتےہوئےعالمی مسائل کےحل کی کوشش کریں۔
روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل بان کی مون سےمنسوب بیان کو یا تو مغربی ذرائع ابلاغ نے تحریف کردیا ہے یا بان کی مون کاموقف یہی ہے لیکن اگریہ بان کی مون کاموقف ہےتو شدید تنقید کےقابل ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ سےاعتماد ختم ہونےکاباعث بن سکتاہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ بان کی مون مسئلےکی جڑ تک پہنچنےکی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ ایٹمی مسئلےکی جڑ کہاں ہے اورپہلی بار کس نے ایٹم بم استعمال کیا یا یہ کہ اسرائیل کس طرح مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کاحامل واحد ملک بن گیا اور علاقےمیں کون جنگ کی آگ بھڑکانےکی کوشش کررہا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب تلاش کرنا زيادہ مشکل نہيں ہے اوراقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے کےاراکین کےسلسلےمیں حقیقت پسندانہ بیانات دیں اور مسائل کےحقیقی حل میں مدد کریں۔
اس بنا پر توقع ہے کہ اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل اس ادارے کےامور کی انجام دہی میں اپنی غیرجانبداری کاتحفظ کریں گےکیونکہ غیرجانبداری، شفافیت، اورانصاف ، اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل کی کارکردگی میں کامیابی کا کلیدی اصول ہے۔